Home / World / معاشی ٹیم 208 ارب روپے معاف کرنے کی تفصیل قوم کو بتائے’

معاشی ٹیم 208 ارب روپے معاف کرنے کی تفصیل قوم کو بتائے’

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ وزیرا‏عظم عمران خان نے اپنی معاشی ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ وہ  208 ارب روپے معاف کرنے کی تفصیل قوم کے سامنے رکھے۔

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 7 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق وزراء نے گیس ڈیولپمنٹ سرچارج کی مد میں 208 ارب روپے معاف کرنے پر اعتراض اٹھایا جس پر مشیر خزانہ نے کابینہ ارکان کو معاملے پر تفصیلی بریفنگ دی۔

وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد وفاقی وزیر برائے بجلی عمر ایوب، وزیراعظم کے معاونین خصوصی فردوس عاشق اعوان اور ندیم بابر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (جی آئی ڈی سی) کی مد میں کسی کو بھی خلاف ضابطہ مراعات فراہم نہیں کی گئی ہیں، اس حوالے سے الزامات میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔

 آرڈیننس کی تفصیل قوم کے سامنے رکھی جائے: وزیراعظم کی معاشی ٹیم کو ہدایت

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ کابینہ کے اجلاس کے دوران وزیرِاعظم نے اس امر پر گہرے افسوس اور تشویش کا اظہار کیا کہ بعض عناصر کی جانب سے غلط اور بے بنیاد خبروں کو بنیاد بنا کر عوام کو حکومت کے بارے میں گمراہ کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے گمراہ کن پراپیگنڈے سے عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ حکومت کی ساکھ متاثر ہو، ماضی میں کرپشن کے ریکارڈ توڑنے والے افراد کی جانب سے غلط معلومات کی بنیاد پر عوام الناس کو گمراہ کیا جارہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیرِاعظم عمران خان نے معاشی ٹیم کو ہدایت کی کہ معیشت کے حوالے اور خصوصاً جی آئی ڈی سی کے حوالے سے تمام حقائق تفصیلات کے ساتھ قوم کے سامنے رکھے جائیں اور معاشی میدان میں حاصل ہونے والی کامیابیوں سے عوام کو آگاہ کیا جائے۔

سازشیں اور الزامات بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں: وفاقی وزیر عمر ایوب

وفاقی وزیر برائے بجلی عمر ایوب کا صدارتی آرڈیننس سے متعلق کہنا تھا کہ آرڈیننس شفاف طریقے سے سامنے لایا گیا ہے، اس پر سابق وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کام شروع کیا تھا، جب ہم نے ذمہ داریاں سنبھالیں تو یہ سلسلہ ہم نے آگے بڑھایا، ہم نے کسی کو ’مفت کا کھانا‘ نہیں کھلایا ہے، تمام امور شفاف طریقے سے آگے بڑھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آرڈیننس سے حکومت کو فائدہ پہنچے گا، پہلے جی آئی ڈی سی کی مد میں 15 ارب روپے جمع ہوتے تھے، اس آرڈیننس کے بعد جی آئی ڈی سی کی مد میں وصولیوں کی شرح 42 ارب روپے ہوگئی جسے بعد میں 47 ارب روپے کی سطح پر لایا جائے گا، کسی کو چھوٹ نہیں دی گئی ہے، اس حوالے سے افواہیں اور غلط بیانی کی جا رہی ہے، سازشیں اور الزامات بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں۔

’آرڈیننس سے وہ کمپنیاں فائدہ اٹھا سکتی ہیں جو فرانزک آڈٹ کیلئے آمادہ ہوں گی‘

 وزیراعظم کے معاون خصوصی ندیم بابر نے کا کہنا تھا کہ حکومت وزیراعظم عمران خان کی ہدایات کے مطابق مہنگائی پر قابو پانے کیلئے مختلف نوعیت کے اقدامات کر رہی ہے، جی آئی ڈی سی کا معاملہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ جب تک اس سیس کے حوالے سے مقدمہ بازی جاری رہتی، اس وقت تک ہم بیک لاگ ختم کرکے آگے نہیں بڑھ سکتے تھے، جی آئی ڈی سی کے حوالے سے تمام معاملات شفاف طریقے سے کئے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آرڈیننس سے وہ فرٹیلائزر کمپنیاں فائدہ اٹھا سکتی ہیں جو فرانزک آڈٹ کی شرط کو لاگو کرنے پر آمادہ ہوں گی، وزیراعظم کی ہدایت پر فرانزک آڈٹ کی شرط کو آرڈیننس کا حصہ بنانے کیلئے ترمیمی آرڈیننس سامنے لایا جائے گا۔

About Editor Tehqiq Nama

Check Also

ملازمت سے استعفیٰ نہیں دیا، دھمکیاں مل رہی ہیں تحفظ فراہم کیا جائے، لیڈی کانسٹیبل

وکیل کی بدسلوکی کا شکار لیڈی کانسٹیبل فائزہ نواز کا کہنا ہے کہ جب عزت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے