Home / World / رہبر کمیٹی میں شامل اپوزیشن جماعتوں کا مولانا کے آزادی مارچ میں شرکت کا فیصلہ

رہبر کمیٹی میں شامل اپوزیشن جماعتوں کا مولانا کے آزادی مارچ میں شرکت کا فیصلہ

آزادی مارچ کیلئے اپوزیشن کی حکمت عملی طے کرنے کیلئے رہبر کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں حکومت سے فوری طور پر مستعفی ہونے اور نئے انتخابات کا مطالبہ کیا گیا۔

علاوہ ازیں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کی زیر صدارت پیپلزپارٹی کی کور کمیٹی کا اجلاس بدھ کو کراچی میں ہوگا جس میں آزادی مارچ سمیت دیگر اہم امور پر لائحہ عمل مرتب کیا جائےگا۔

اپوزیشن کی 9 سیاسی جماعتوں کی رہبر کمیٹی نے اہم فیصلے کرلیے جبکہ چار نکات پر بھی اتفاق ہو گیا۔

پہلا نکتہ وزیر اعظم عمران خان استعفیٰ دیں، دوسرا نکتہ حکومت گھر جائے، تیسرا نکتہ نئے انتخابات کرائے جائیں جس میں فوج کا عمل دخل نہ ہو اور چوتھا نکتہ آئین میں موجود اسلامی شقوں کا مکمل دفاع کیا جائے گا۔

رہبر کمیٹی میں شامل تمام اپوزیشن جماعتوں نے مولانا فضل الرحمان کے 27 اکتوبر کے آزادی مارچ میں بھی بھر پور شرکت کرنے کا فیصلہ کیا۔

مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے بھی آزادی مارچ میں شرکت کی تصدیق کی۔ پیپلز پارٹی کے رہنما نیئر بخاری کا کہنا تھا سب کی تیاریاں بھی ہو چکیں، مگر اس وقت حکمت عملی کے تحت ساری باتیں نہیں بتائی جاسکتیں۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن جماعتوں نے یہ بھی طے کر لیا ہے کہ کس جماعت کا کون سا مرکزی لیڈر آزادی مارچ میں کس مقام سے شریک ہوگا اور کہاں کہاں سے قافلے شامل ہوں گے۔

مطالبات کے اعلان کا اختیار مولانا فضل الرحمان کو دیا گیا ہے۔

رہبر کمیٹی

اپوزیشن کی رہبر کمیٹی میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے دو، دو جب کہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کا ایک ایک نمائندہ شامل ہے۔

رہبر کمیٹی میں پیپلز پارٹی کی جانب سے یوسف رضاء گیلانی، نیئر بخاری ممبر تھے تاہم یوسف رضا گیلانی کی جگہ فرحت اللہ بابر نے اجلاس میں شرکت کی۔

اس موقع پر صحافی نے فرحت اللہ بابر سے سوال کیا کہ آپ تو ممبر نہیں ہیں جس پر ان کا بتانا تھا کہ یوسف رضا گیلانی کی جگہ انہیں کمیٹی کا ممبر بنایا گیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی جانب سے شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال رہبر کمیٹی کے ممبر ہیں جب کہ جعمیت علماء اسلام (ف) سے اکرم خان درانی اور نیشنل پارٹی سے میر حاصل بزنجو کمیٹی میں شامل ہیں۔

پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی سے عثمان کاکڑ، قومی وطن پارٹی سے ہاشم بابر، اے این پی سے میاں افتخار، مرکزی جمعیت اہلحدیث سے شفیق پسروری اور جمعیت علماء پاکستان سے اویس نورانی رہبر کمیٹی کے ممبر ہیں۔

فضل الرحمان حکومت کیخلاف کیوں دھرنا دینا چاہتے ہیں؟

25 جولائی 2018 کو ہونے والے عام انتخابات میں مولانا فضل الرحمان سمیت کئی بڑے ناموں کو شکست ہوئی جس کے فوراً بعد جے یو آئی ف، مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی و دیگر جماعتوں نے آل پارٹیز کانفرنس بلائی اور انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے شفاف انتخابات کا مطالبہ کیا۔

19 اگست 2019 کو جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) اسلام آباد میں ہوئی جس میں مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کے قائدین شریک ہوئے۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کمر کے درد اور پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پارٹی دورے کے باعث اے پی سی میں شریک نہیں ہوئے۔

اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمان نے حزب اختلاف کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب اس بات پر متفق ہیں ملک کو مختلف بحرانوں سے دوچار کردیا گیا ہے، اس وقت پاکستان کی سلامتی کو خطرہ ہے اور حکومت کی ایک سالہ کارکردگی کے نتیجے میں ملک کو کئی بحرانوں کا سامنا ہے۔

About Editor Tehqiq Nama

Check Also

کٹھ پتلی حکومت نے عوام کا معاشی قتل کردیا: بلاول

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو  زرداری کا کہنا ہے کہ کٹھ پتلی حکومت نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے