پاکستان تحریک شاد باد ہی عوامی امنگوں کی ترجمان ہے ڈاکٹر حنیف مغل

پاکستان تحریک شاد باد کے چیئرمین ڈاکٹرحنیف مغل نے تحقیق نیوز سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی ایک ایسا عفریت بن چکی ہے جس نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، مگر افسوس کہ حکمرانوں کے ایوانوں تک اس کی چیخیں نہیں پہنچ رہیں۔ روٹی، کپڑا اور مکان—جو کبھی ریاست کی بنیادی ذمہ داری سمجھے جاتے تھے—آج عام آدمی کے لیے خواب بنتے جا رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے دعوؤں اور اعلانات کی بھرمار ہے، مگر زمینی حقائق ان دعوؤں کی نفی کرتے دکھائی دیتے پاکستان تحریک شاد۔باد ہی صرف عوام کو ان مسائل سے نکال سکتی ہے ۔
آٹا، چینی، دالیں، سبزیاں، بجلی، گیس، پیٹرول—کوئی شے ایسی نہیں جو عوام کی پہنچ میں ہو۔ تنخواہ دار طبقہ ہو یا دیہاڑی دار مزدور، ہر شخص ایک ہی سوال کر رہا ہے: کیا جینا جرم بن چکا ہے؟ مہنگائی کی شرح کم ہونے کے سرکاری اعداد و شمار عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں، کیونکہ بازار میں حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔
حکومت معاشی استحکام کے دعوے تو کرتی ہے، مگر یہ استحکام صرف اشرافیہ کے لیے کیوں مخصوص ہے؟ وزراء کی مراعات، شاہانہ پروٹوکول اور غیر ضروری سرکاری اخراجات میں کمی کا کوئی عملی مظاہرہ نظر نہیں آتا، البتہ بجٹ آئے دن عوام پر بوجھ بن کر نازل ہوتا ہے۔ ٹیکسوں کی بھرمار نے متوسط طبقے کو غربت کی لکیر کے قریب لا کھڑا کیا ہے۔
مہنگائی نے صرف گھریلو بجٹ ہی نہیں، سماجی اقدار کو بھی متاثر کیا ہے۔ جرائم میں اضافہ، خودکشیوں کے واقعات، گھریلو جھگڑے اور ذہنی دباؤ—یہ سب اسی معاشی جبر کی پیداوار ہیں۔ ایک باپ اپنے بچوں کی فیس ادا کرنے سے قاصر ہے، ایک ماں باورچی خانے میں خالی برتن دیکھ کر آہیں بھرتی ہے، مگر ایوانِ اقتدار میں بیٹھے حکمرانوں کو یہ مناظر دکھائی نہیں دیتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سوال یہ ہے کہ اگر حکومت عوام کو ریلیف نہیں دے سکتی تو پھر اقتدار کا مقصد کیا رہ جاتا ہے؟ کیا حکومت کی ذمہ داری صرف بیانات اور پریس کانفرنسوں تک محدود ہے؟ عوام اب صرف وعدے نہیں، عملی اقدامات چاہتے ہیں—مہنگائی پر حقیقی کنٹرول، ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے خلاف بے لاگ کارروائی، اور اشرافیہ کے لیے بھی وہی قوانین جو عام شہری کے لیے ہیں ایک اور سوال کے جواب میں پاکستان تحریک شاد باد کے چیئرمین ڈاکٹر مغل نے کہا کو اگر حالات یہی رہے تو عوام کا صبر جواب دے سکتا ہے، اور تاریخ گواہ ہے کہ جب عوام جاگتے ہیں تو تخت و تاج لرز جاتے ہیں۔ اب وقت ہے کہ حکومت ہوش کے ناخن لے، کیونکہ مہنگائی صرف معاشی مسئلہ نہیں، یہ عوامی بقا کا سوال بن چکا ہے





